15 جون 2009 - 19:30

حج کے موقع پر مسلمانوں کا ایک ایسا عظیم اور روح پرور اجتماع ہر سال سرزمین وحی پر منعقد ہوتا ہے جہاں 20 لاکھ سے زیادہ مسلمان رنگ و نسل، قوم و قبیلے اور مسلک و زبان کے تمام رشتوں کو چھوڑکر مکہ مکرمّہ میں یک آواز ہوکر اللہ کے سوا سارے خداؤں کی نفی کرتے ہیں۔

سب لوگ ایک ہی وضع قطع کے نظر آتے ہیں سفید لباس میں، جسے ہم احرام کہتے ہیں؛ اس طرح مسلمان ساری دنیا پر یہ ثابت کردیتے ہیں کہ رنگ، نسل زبان، مسلک اور قوم قبیلہ ہماری اپنی شناخت اور پہچان کا ذریعہ تو ہے لیکن بنیادی طور پر ہم سب مسلمان ہیں؛ ہمارا خدا ایک ہے؛ ہمارا پیغمبر (ص) ایک؛ ہم سب ایک ہی کتاب یعنی قرآن مجید کو اپنی نجات کا ذریعہ مانتے ہیں اور خانۂ خدا کو قبلہ تسلیم کرکے پانچوں وقت اس کی سمت رخ کرکے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ۔موسم حج ہر سال ایک ہی پیغام دہراتا ہے اور اس کا پیغام ہے توحید کا اقرار اور اس کے مدمقابل ہر دوسرے خدا کی نفی، چاہے وہ جس شکل و صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حج کے اس عظیم اجتماع کو مسلمانوں کی طاقت کے اظہار کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے صرف چند مناسک کی ادائیگی تک محدود کردیا گیا اور حج کی حقیقی روح کو سلب کرکے اسے صرف ظاہری رسومات کی ادائیگی کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے اور اس کام میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جو دین کو اپنے اقتدار کے لئے طول دینے کا ذریعہ تو بناتے ہیں لیکن دین کے تمام تر سیاسی پہلوؤں کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ سرزمین حجاز پر ایک مخصوص خاندان نے اپنے خاص مسلکی نظریات کی بنیاد پر جب اپنی حکومت قائم کی تو اس پاک سرزمین کا نام تک بدل ڈالا اور حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے اپنے نام پر سعودی عرب رکھ دیا۔ دنیا میں متعدد ایسے خاندان اور فرمانروا گزرے ہیں جنہوں نے مختلف سرزمینوں اور ملکوں پر قبضہ کیا لیکن ایسا بھی نہیں ہوا کہ کسی شاہی فرمانروا یا حکمراں خاندان نے ملک یا سرزمین کا نام بدل کر اپنے نام سے مخصوص کرلیا ہو لیکن شاہ سعود نے سرزمین وحی پر قبضہ جمانے کے بعد حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے اپنے نام سے منسوب کیا اور اس اقدام سے اس خاندان کی مذہبی حیثیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ شاہ سعود نے سرزمین حجاز کو اپنے خاندان سے منسوب کردیا لہذا آل سعود آج خود کو اس سرزمین کا مالک تصور کرتی ہے اور جو ان کے جی میں آتا ہے یا ان کے منسوب کردہ اور ان سے وابستہ مفتی اور نام نہاد علما جو کہتے ہیں اس کو دین کی اساس اور بنیاد قرار دیکر ساری دنیا کے مسلمانوں کو اس کا پابند کردیا جاتا ہے ۔برائت از مشرکین یا مشرکین سے بیزاری کا اعلان حج کا ایک بنیادی رکن ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور آپ کے بعد آپ (ص) کے اصحاب اس پر عمل کرتے رہے تا ہم مشرکین سے برائت اور بیزاری کی اس رسم کو بتدریج ختم کرکے حج کو بے روح مناسک کی ادائیگی کا ذریعہ بنادیا گيا۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے حجاج کے نام اپنے تاریخی خطاب میں مشرکین سے برائت اور بے زاری کے عمل کو پھر سے زندہ کئے جانے پر تاکید کی جسے دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصاً اسلام اور اس کے سیاسی کردار اور اہمیت پر یقین رکھنے والے علماء نے سراہا اور دنیا نے دیکھا کہ ایک طویل عرصے کے بعد حج اپنی سیاسی اور مذہبی خصوصیات کے ساتھ جلوہ گر ہوا۔البتہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت سے خائف سامراجی طاقتوں کو حجاج کا کرام کا یہ عمل ہرگز پسند نہ آیا اور آ بھی نہیں سکتا تھا اس لئے کہ 20 لاکھ سے زائد مسلمان حجاج کرام نے مشرکین سے برائت اور بیزاری کی اس رسم پر عمل کرتے ہوئے عصر حاضر کے مشرکین اور طاغوتی طاقتوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مردہ باد جیسے نعرے لگا کر ان سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا اور اس کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ جب یہ حجاج اپنے اپنے ممالک میں واپس لوٹے تو انہوں نے عصر حاضر کے طاغوتوں اور مشرکوں کے خلاف حجاج کرام کے مظاہروں کی روداد بیان کی جس سے مسلمانوں میں اتحاد کی روح بیدار ہوئی اور دنیا کو پتہ چل گیا کہ عالم اسلام کا حقیقی دشمن کون ہے؟ اور وہ کیا چاہتا ہے ؟ بہرحال آل سعود کے حکمران چونکہ اس خطے میں سامراجی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے مفادات کے نگراں اور محافظ شمار ہوتے ہیں لہذا انہوں نے حجاج کے اس عمل کو سیاسی قرار دے کر اس پر ایک بار پھر قدغن لگانے کی کوشش کی اور سن 1987 کے موسم حج کے دوران جب حجاج کرام نے مشرکین سے برائت کے اظہار کے لئے اجتماع منعقد کیا تو انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔اس واقعے کے بعد مغربی میڈیا مقامی ذرائع ابلاغ اور علاقے کے بعض عرب اور اسلامی ممالک نے جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے اس واقعے کا ذمہ دار حجاج کرام کو قرار دیا، جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ حج کے ایک بنیادی رکن یعنی مشرکین سے بیزاری کا اظہار کررہے تھے لیکن زيادہ دیر نہیں گزری تھی کہ دنیا تک اصل حقائق پہنچنا شروع ہوگئے اور سب کو پتہ چل گیا کہ حجاج کرام کے قتل عام کا اصل محرک کیا تھا؟ حقیقت امر یہ ہے کہ اگر حج کے سیاسی پہلو کو نظرانداز کردیا جائے تو یہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ایک بڑی زيادتی اور ناانصافی ہوگی اس لئے کہ فلسطین خصوصاً غزہ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والے مسلمان آس لگا کے بیٹھے ہیں کہ ان کے مسلمان بھائي ان کی فریاد کو سن لیں گے اور ان کی فریاد دنیا والوں تک پہنچا دیں گے کیونکہ حج یہ مہم سر کرنے کے لئے بہترین موقع ہے؛ اس لئے کہ فریضۂ حج کی ادائیگي کے لئے پوری دنیا سے مسلمان آتے ہیں لہذا اگر وہ صرف چند مذہبی رسومات کی انجام دہی کے بعد خاموشی سے واپس چلے جائیں تو یہ ایک بے معنی سے چیز ہوگی کہ پوری دنیا کے 20 لاکھ مسلمان سفر کی صعوبتیں اور مشکلات برداشت کرکے اور روپیہ پیسہ خرچ کرکے یہاں آئیں اور اسلامی دنیا کے مسائل کا حل تو دور کی بات ان پر توجہ کئے بغیر یہاں سے واپس چلے جائیں!؟ ہر ذی شعور انسان اس بات کی تائيد کرے گا کہ حج ایسا موقع ہے کہ جس سے فائدہ اٹھا کر اسلامی دنیا اپنی مشکلات اور مسائل حل کرسکتی ہے یا کم از کم مسائل اور مشکلات کے حل کے طریقے پر بحث اور گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ چنانچہ اسلامی دنیا کا دانشور طبقہ خصوصاً روشن فکر علما امام خمینی (رح) کی اس تجویز کی پوری پوری حمایت کرتے ہیں کہ مشرکین سے بیزاری کی رسم کو جسے بعض سامراجی ذہنیت رکھنے والوں نے حذف کردیا تھا دوبارہ زندہ کیا جائے تا کہ اسلامی دنیا کو اپنا صحیح تشخص اجاگر کرنے اور اپنی بات عالمی سطح تک پہنچانے کا موقع مل سکے۔رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی اس روش کو قائم رکھتے ہوئے حجاج کرام کو مشرکین سے بیزاری کے اظہار کو مناسک حج میں شامل کرنے کےاحکامات دیئے ہیں اور انشاء اللہ کل میدان عرفات میں حجاج اپنے اس فریضے پر عمل کریں گے ۔یہ ایک واضح امر ہے کہ اسلامی دنیا ہر طرح کے وسائل سے لیس ہونے کے باوجود آج جس کسمپرسی کا شکار ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت نے  اپنی سامراجی ذہنیت کی بنا پر ذلت کا طوق مسلمانوں کے گلے میں ڈال دیا ہے جس کی بنا پر بڑی شیطانی طاقتیں ہرجگہ اپنی من مانیاں کر رہی ہیں لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ہر پلیٹ فارم سے خصوصاً حج کے عظیم الشان اور مثالی اجتماع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور فلسطین، لبنان، عراق ، افغانستان اور دیگر ملکوں کے مسلمانوں کی مظلومیت کی آواز ساری دنیا کے کانوں تک پہنچائیں اور اس طرح اپنے مسلمان بھائیوں کے مسائل کے حل اور ان کی دستگیری کے لئے اپنے ذہنوں کو آمادہ کریں اور ان مسلمانوں کو یہ شعور اور آگاہی دیں کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کی فکر کرتے ہوئے عملی قدم اٹھائیں ۔